1. FBS >
  2. FBS بلاگ >
  3. مارکیٹ کیوں کریش ہوئی؟
2023-05-29 • اپ ڈیڈ

مارکیٹ کیوں کریش ہوئی؟

cover.png

اسٹاک مارکیٹ کو کریش کا سامنا کرتے دیکھنا ہمیشہ مایوس کُن ہوتا ہے۔ جب اسٹاکس کی قیمتیں گر رہی ہوتی ہیں، تو سرمایہ کاران اپنا اعتماد کھونے لگتے ہیں اور حتیٰ کہ اپنے شیئرز نقصان کے عوض فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کا مجموعی طور پر اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، افراط زر بڑھنے کا سبب بن سکتا ہے، اور یہاں تک کہ ایک نئے معاشی بحران کا آغاز ہو سکتا ہے۔

اس آرٹیکل میں، ہم اسٹاک مارکیٹ کی موجودہ صورتحال، اسٹاک مارکیٹ کے حالیہ کریش کی وجہ، اسٹاک مارکیٹ کریش کے ممکنہ نتائج کے بارے میں جانیں گے نیز ہم کب تک اس کے ختم ہونے کی توقع کر سکتے ہیں۔

کلیدی ٹیک ویز

  • اسٹاک مارکیٹ کریش اسٹاک کی قیمتوں میں ایک نہایت تیز اور غیر متوقع کمی ہے جو عموماً ایک دن کے اندر واقع ہو جاتی ہے۔
  • اسٹاک مارکیٹ کریشز ایک طویل بیئر مارکیٹ سے قبل اور حتیٰ کہ ایک اہم معاشی بحران کے بعد بھی آ سکتے ہیں۔
  • افراط زر، عالمی معاشی یا سیاسی کشیدگیاں، اور حتیٰ کہ علیحدہ حکومتوں کی جانب سے کیے گئے فیصلے اسٹاک مارکیٹ کریش کا سبب بن سکتے ہیں۔
  • سرکاری رپورٹس یا ریلیزز سرمایہ کاران کی یہ پیشین گوئی کرنے میں مدد کر سکتی ہیں کہ آیا مارکیٹ مستقبل قریب میں گرنے والی ہے۔

اس وقت اسٹاک مارکیٹ میں کیا ہو رہا ہے؟

اسٹاک مارکیٹ مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ پچھلا سال عمومی طور پر عالمی معیشت کے لیے مشکل تھا، جس نے نتیجتاً تمام مالیاتی مارکیٹس کی موجودہ صورتحال کو متاثر کیا ہے۔ دسمبر کے کریش کے بعد سست اضافے کے باوجود S&P 500 انڈیکس ایک بار پھر گر گیا ہے، اور Silicon Valley Bank کی حالیہ ناکامی نے حقیقتاً انڈسٹری میں ایک ہلچل مچا دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ بیئر مارکیٹ مستقبل قریب میں پلٹنے والی نہیں ہے۔

موجودہ وقت میں، اسٹاک مارکیٹ زوال کے دور کا سامنا کر رہی ہے کیونکہ سرمایہ کاران اس خدشے کے باعث، اپنے اسٹاکس فروخت کرنا شروع کردیتے ہیں کہ قیمتیں مستقبل قریب میں بڑھنے والی نہیں ہیں اور اس طرح وہ اپنے فنڈز کی بحالی کا موقع گنوا سکتے ہیں۔

1142-2.png

اسٹاک مارکیٹ زوال پذیر کیوں ہے؟

گزشتہ دو سالوں میں معیشت سست روی کا شکار ہوئی ہے۔ کمپنیز پہلے کی نسبت اب کم پیسہ کماتی ہیں، جس سے سرمایہ کاران کے مابین غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہیں مزید اس بات کا یقین نہیں ہے کہ آیا مارکیٹ مندے کے رجحان سے بحال ہونے والی ہے، لہذا وہ نئے حاصل کرنے کی بجائے اسٹاکس فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں، جو قیمتوں کو کم کرنے اور ممکنہ خریداروں کو خوفزدہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔

اسٹاکس کے زوال پذیر ہونے میں متعدد وجوہات شامل ہوتی ہیں، اور ہم ان میں سب سے نمایاں کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

افراط زر اور شرح سود میں اضافہ

ریاست ہائے متحدہ کے فیڈرل ریزرو کی جانب سے بڑھتی ہوئی افراط زر سے نمٹنے کی کوشش میں ریزرو بیلنسز پر ادا کی جانے والی شرح سود میں 4.4% تک اضافے کے اعلان کے بعد، نئے سال کے آغاز سے عین قبل اسٹاک مارکیٹ تنزلی کا شکار ہو گئی ہے۔ یہ ایک عمومی طریقہ کار ہے جس کا مقصد زیرِ گردش رقم کی مقدار میں تخفیف اور آبادی کی معاشی سرگرمی کو کم کرنا ہے، اس کے نتیجے میں افراط زر کی شرح میں کمی واقع ہو گی۔

تاہم، اعلیٰ شرح سود کی حامل خبریں عموماً اسٹاک مارکیٹ کے لیے بری ہوتی ہیں۔ جب شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے، تو اس سے کمپنیز کے لیے قرضے لینا اور کاروبار کرنا مہنگا ترین ہو جاتا ہے۔ کم کاروبار کا مطلب کم آمدنی اور کمائیاں، اس کے باعث کمپنی کی ترقی رک جاتی ہے۔ یہ اب سرمایہ کاران کے لیے دلچسپی کا حامل نہیں ہوتا، اس لیے وہ عموماً اپنے ذاتی اسٹاکس سے چھٹکارا حاصل کرنے اور اپنے سرمایے کو زیادہ مستحکم سرمایہ کاریوں میں لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجتاً، ٹریڈرز کی جانب سے نئے مانیٹری ان پٹ کی عدم موجودگی میں اسٹاک مارکیٹ مسلسل گراوٹ کا شکار رہتی ہے۔

رسد اور طلب کے مابین عدم مساوات

یہ عنصر جزوی طور پر افراط زر کی شرحوں میں اضافے سے منسلک ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، کہ رسد اور طلب کا ایک دوسرے سے مضبوط تعلق ہوتا ہے۔ اشیاء کی زیادہ طلب رسد میں اضافہ کرتی ہے اور ان اشیاء کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سرمایہ کاران کے اپنے اسٹاکس فروخت کرنے کے نتیجے میں، اسٹاکس کی رسد بڑھنے لگتی ہے۔ تاہم، موجودہ مالی مشکلات ممکنہ خریداروں کو اسٹاکس کی خریداری کرنے سے چوکنا کر دیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ رسد زیادہ ہونے کے دوران، اسٹاکس کی طلب کافی کم ہوتی ہے۔ یہ عدم مساوات اسٹاکس کی قیمتوں میں کمی کا سبب بنتا ہے۔ لیکن چونکہ مارکیٹ میں موجود زیادہ تر کمپنیز موجودہ حالات سے متاثر ہوتی ہیں، اس لیے طلب اور رسد کے مابین یہ غیر مربوطی اب مجموعی طور پر پوری اسٹاک مارکیٹ میں پھیل چکی ہے۔

عالمی مارکیٹس کے اثرات

حالیہ وبائی مرض نے ظاہر کیا ہے کہ عالمگیریت نے کس طرح تمام ممالک کی معیشتوں کو باہم مربوط کر دیا ہے۔ COVID-19 اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اختیار کردہ اقدامات نے پوری دنیا میں متعدد سپلائی چینز کو منقطع کر دیا ہے۔ اس کے باوجود، جب زیادہ تر ممالک وبائی مرض سے تقریباً بحال ہو چکے ہیں، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح چین کے محدود قرنطینہ اقدامات کے نتیجے میں نئی ​​اشیاء تیار کرنے کے لیے درکار وسائل کی کمی واقع ہوئی اور دنیا بھر میں متعدد کمپنیز کی پیداواری صلاحیت اور منافع متاثر ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک عالمی مارکیٹ میں مروجہ رجحانات اور مسائل دنیا بھر کی دیگر تمام عالمی مارکیٹس کی حالت کو کس طرح متاثر کرتے ہیں، ایک سلسلہ وار ردعمل کی طرح پھیلتے ہیں۔

جیو پولیٹکل واقعات

حتیٰ کہ ایسے واقعات جن کا مالیات سے بلاواسطہ کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ اسٹاک مارکیٹ کے استحکام پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ کمپنی کی اشیاء یا سروسز فراہم کرنے کی صلاحیت بین الاقوامی اور اندرونی تنازعات، قدرتی آفات، حکومت کی انقلابی تبدیلی اور دیگر غیر متوقع حالات سے متاثر ہو سکتی ہے، جس کا اثر اس کی آمدنیوں اور اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی پر پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا جب ایسے واقعات بیک وقت متعدد ممالک میں واقع ہوتے ہیں، تو عالمی اسٹاک مارکیٹ کا نقصان ناگزیر ہے۔

اہم مالیاتی اداروں کا خاتمہ

Silicon Valley Bank کے حالیہ زوال نے مختلف مارکیٹس میں خوف و ہراس کی ایک بڑی لہر کو جنم دیا ہے۔ SVB $200 بلین کے سرمایے کے ساتھ کیلیفورنیا کا دوسرا بڑا بینک تھا، لہٰذا اس کا خاتمہ US کی تاریخ میں کسی بینک کی دوسری سب سے بڑی ناکامی بن گیا۔ وینچر کیپیٹل اور اسٹارٹ اپس سیکٹر میں اس کی سابقہ مشغولیت سے مراد ہے کہ ممکنہ طور پر بہت سے اسٹارٹ اپس کو بینک کے خاتمے کے نتیجے میں نقصان اٹھانا پڑے گا، نیز مستقبل قریب میں کچھ کمپنیز بند ہونے پر مجبور ہو جائیں گی۔ مزید برآں، S&P 500 کو 2023 کے آغاز کے بعد سے اپنے سب سے بڑے ہفتہ وار نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بہترین مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ بینک اور دیگر مالیاتی ادارے اسٹاک مارکیٹ کے استحکام کو کس حد تک متاثر کر سکتے ہیں۔

اسٹاک مارکیٹ کریش کے خطرات

جب اسٹاک مارکیٹ قیمتوں میں غیر متوقع کمی کا سامنا کرتی ہے، تو یہ سرمایہ کاران کو نئے اسٹاکس خریدنے سے روک سکتی ہے۔ وہ ان سرمایہ کاریوں سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے نزدیک غیر معتبر ہیں۔ تاہم اسٹاکس، کمپنیز کے لیے مانیٹری معاونت کا ایک اہم ذریعہ ہیں، اور معقول سرمایہ کاران کے بغیر ان کے کاروباروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کمپنیز کو اخراجات میں کافی حد تک کمی اور ملازمین کی ایک بڑی تعداد نکالنی پڑ سکتی ہے، جس سے بیروزگاری کی مجموعی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی ملازمتیں کھو دیتے ہیں وہ کم رقم خرچ کرتے ہیں، اور اس سے کمپنیز کی آمدنی میں مزید کمی آتی ہے۔ یہ لامتناہی چکر بالآخر معیشت کے زوال اور حتیٰ کہ ایک نئے معاشی بحران کا باعث بھی بن سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں رونما ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کریشز کے باعث اکثر اوقات عام عوام میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

1142-3.png

اسٹاک مارکیٹ کریش کب ختم ہو گا؟

جب مارکیٹ گری ہو، تو آپ کو ایسا لگ سکتا ہے کہ یہ مندے کا رجحان کبھی ختم نہیں ہو گا۔ تاہم، عالمی اسٹاک مارکیٹس اس سے پہلے بھی اس طرح کے ڈرامائی کریش کا سامنا کر چکی ہیں۔ جس چیز کو متعدد ٹریڈرز نظر انداز کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ ہمیشہ سائیکلز میں چلتی ہے۔ اپنی گرتی ہوئی قیمتوں اور سرمایہ کار کی منفی سوچ کی حامل، بیئرش مارکیٹ کے بعد، ہمیشہ ایک بُلش مارکیٹ ہوتی ہے، جو ہمیشہ طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے۔

قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، مگر بالآخر ایسا ہو کر رہے گا۔ ایسا ہونے کے امکان کے متعلق جاننے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سرکاری رپورٹس، مرکزی بینک کی جانب سے کیے گئے مانیٹری پالیسی کے فیصلے اور معاشی ریلیزز پر نظر رکھی جائے۔

مثلاً، Nonfarm Payrolls (NFP) رپورٹ USA میں موجود لیبر مارکیٹ کی موجودہ صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔ سرمایہ کاران اس رپورٹ پر توجہ مرکوز کرتے ہیں کیونکہ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آیا اسٹاک کی قیمتوں میں اضافے یا گرنے کا امکان ہے۔ اگر NFP رپورٹ ملازمت کی مستحکم ترقی کی نشاندہی کرتی ہے، تو یہ ایک مستحکم معیشت کی علامت ہے، جبکہ ملازمت میں غیر مستحکم ترقی یا زیادہ بے روزگاری اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ معیشت جدوجہد کر رہی ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں جلد مسائل رونما ہو سکتے ہیں۔

صارفی قیمت کا انڈیکس (CPI) ایک ایسا انڈیکیٹر ہے جو سرمایہ کاران کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ افراط زر کی شرح کی پیمائش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر CPI ظاہر کرتا ہے کہ افراط زر خطرناک حد تک زیادہ ہو رہا ہے، تو حکومت شرح سود میں اضافہ کر سکتی ہے، جس سے اسٹاک کی قیمتوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس کا حال ہی میں ہم نے USA میں مشاہدہ کیا ہے۔

بہت سی دوسری رپورٹس اور ریلیزز موجود ہیں جو آپ کو زیادہ واضح معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔ معاشی ریلیزز کو فالو کریں اور FBS معاشی کیلنڈر کے ساتھ مارکیٹ سے آگے رہیں۔ یہ آپ کو یہ تعین کرنے میں مدد دے گا کہ آیا اسٹاک مارکیٹ کے کریش ہونے یا دوبارہ بڑھنے کا امکان ہے، اور پھر اس کے مطابق تیاری کریں۔

فیڈرل ریزرو (US مرکزی بینک) اور دیگر ریگولیٹرز مذکورہ بیان کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر، شرح سود میں تبدیلی کرنے کی فیصلہ سازیاں کرتے ہیں۔ اگر افراط زر انتہا پر پہنچ جاتی ہے اور حکام پرُیقین ہوتے ہیں کہ اس میں جلد کمی واقع ہو گی، تو فیڈ شرح سود میں کمی کر کے، امریکی ڈالر کمزور کرتا ہے اور اسٹاکس میں اضافہ کرتا ہے۔

نتیجہ

اسٹاک مارکیٹ کے نسبتاً مختصر مدت کے دوران یکے بعد دیگرے کریش ہونے کی وجہ سے، اس دہائی کا آغاز کافی مشکل تھا۔ اس بات کا اندازہ لگانا خاصا مشکل ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں بیئرش رجحان کتنی جلدی قیمت بڑھنے میں اضافے سے تبدیل ہو گا۔ اس وقت سرمایہ کاران اور ٹریڈرز صرف ایک ہی کام کر سکتے ہیں کہ وہ مزید سرکاری ریلیز کا انتظار کریں اور خوف کے باعث عجلت میں فیصلے کرنے سے گریز کریں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

اسٹاکس کی قیمت اُوپر کیوں جاتی ہے؟

اسٹاکس کی قیمت میں اس وقت اضافہ ہوتا ہے جب ٹریڈرز کی ایک بڑی تعداد انہیں خریدنا چاہتی ہے۔ اسٹاک کی طلب جتنی زیادہ ہو گی، رسد اتنی ہی کم ہو گی، جس کا مطلب ہے کہ خریداروں کے لیے بقایا اسٹاکس حاصل کرنا زیادہ مہنگا ہو جائے گا۔

اسٹاک مارکیٹ میں کیا ہو رہا ہے؟

فی الحال، اسٹاک مارکیٹ تنزلی کی طرف جا رہی ہے۔ اس کی وجہ بلند افراط زر، جیو پالیٹکل واقعات، اور شرح سود میں حالیہ اضافہ ہے جس کے باعث قرضے لینا زیادہ مہنگا ہو گیا ہے۔

مارکیٹ تنزلی کا شکار کیوں ہو رہی ہے؟

جب سیکیورٹیز کی طلب کم ہوتی ہے تو مارکیٹ تنزلی کا شکار ہوتی ہے۔ ایک طویل بیئر مارکیٹ اس وقت واقع ہوتی ہے جب معیشت مشکلات کا سامنا کر رہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاران اپنا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور اپنی زیرِ ملکیت اسٹاکس فروخت کر دیتے ہیں۔

  • 46

ٹیم اسپرٹ کو محسوس کریں

ڈیٹا جمع کرنے کا نوٹس

ایف بی ایس اس ویب سائٹ کو چلانے کے لئے آپ کا ریکارڈ ترتیب دیتا ہے۔ "قبول" کا بٹن دبانے سے آپ ہماری پرائویسی پالیسی پر اتفاق کرتے ہیں۔

دوبارہ کال کریں

ایک مینجر جلد ہی آپکو کال کرے گا

نمبر تبدیل کریں

آپ کی درخواست موصول ہو گئ ہے

ایک مینجر جلد ہی آپکو کال کرے گا

اس فون نمبر کیلئے اگلی کال بیک کی درخواست
۔ میں دستیاب ہوگی

اگر آپ کو کوئی فوری مسئلہ درپیش ہے تو براہ کرم ہم سے رابطہ کریں
لائیو چیٹ کے ذریعے

اندروانی مسئلہ ،تھوڑی دیر بعد کوشش کریں

اپنا وقت ضائع نہ کریں – اس بات پر نظر رکھیں کہ NFP امریکی ڈالر اور منافع کو کس طرح متاثر کرسکتا ہے!

ابتدائی فوریکس گائیڈ بک

فاریکس پر نئے آنے والوں کیلئے یہ کتاب ٹریڈنگ کی دنیا کے بارے میں رہنمائی کرتی ہے۔

ابتدائی فوریکس گائیڈ بک

ٹریڈنگ شروع کرنے کے لئے سب سے اہم چیزیں
اپنا ای میل لکھیں اور ہم آپ کو مفت ابتدائی فوریکس گائیڈ بک بھیجیں گے

شکریہ آپکا ای میل موصول ہو چکا ہے

ہم نے آپ کے ای میل پر ایک خصوصی لنک ای میل کیا ہے۔
لنک پر کلک کریں اور اپنی فوریکس گائیڈ بک وصول کریں۔

آپ اپنے براؤزر کے پرانا ورژن کا استعمال کر رہے ہیں.

اپ ڈیٹ کریں اور محفوظ، مزید آرام دہ، پرسکون اور پیداواری ٹریڈنگ کے تجربے کے لئے ایک کوشش کریں.

Safari Chrome Firefox Opera